حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یونیورسٹیز میں رہبرِ معظم انقلاب اسلامی کے نمائندہ ادارہ کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین مصطفیٰ رستمی نے آستانِ قدس رضوی کی لائبریری کے قدس ہال میں منعقدہ گیارہویں عالمی اجلاس "مجاهدان در غربت" کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ایرانی قوم نے ملک بھر میں 240 سے زائد راتوں تک میدان میں موجود رہ کر اپنی مجاہدت اور اسلام کے دفاع کے عزم و وفاداری کا عملی مظاہرہ کیا۔
انہوں نے امامِ شہید (رہ) کے فکری نظام میں استکبار کے خلاف جدوجہد کے بنیادی اصولوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: امامِ شہید کے افکار میں جو کچھ نظر آتا ہے، وہ استکبار اور استعمار کے مقابلے کے میدان میں قرآن کریم اور کلامِ الٰہی کی ترجمانی ہے۔ قرآن کریم کے مطابق مستکبرین کی طاقت کا اصل سرچشمہ ان کی حقیقی قوت نہیں بلکہ وہ ذہنیت اور نفسیاتی کیفیت ہے جو قوموں کو ان کے تسلط کو قبول کرنے اور استکباری طاقتوں کے سامنے احساسِ کمتری میں مبتلا ہونے پر آمادہ کرتی ہے۔

یونیورسٹیز میں رہبرِ معظم انقلاب اسلامی کے نمائندہ ادارہ کے سربراہ نے مزید کہا: مستکبرین کی طاقت میں اضافے کا سبب قوموں کو کم تر سمجھنے پر مجبور کرنا اور ان کے اندر تسلیم و اطاعت کی ذہنیت پیدا کرنا ہے۔ اسی لیے انقلابِ اسلامی، امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی تحریک اور امامِ شہید رحمۃ اللہ علیہ کی 37 سالہ مجاہدانہ اور درخشاں قیادت کے دوران امتِ اسلامی کی رہنمائی اور امور کی انجام دہی کا بنیادی ہدف بھی استعمار اور استکبار سے متاثر اس ذہنیت کو توڑنا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: انقلابِ اسلامی نے قوموں کو اعتمادِ نفس، خود اعتمادی اور اپنی صلاحیتوں پر یقین عطا کیا اور انہیں یہ سکھایا کہ خداوندِ متعال پر بھروسہ کرتے ہوئے بڑی طاقتوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوں اور مستکبرین کے ناجائز مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے گریز کریں۔
حجت الاسلام والمسلمین رستمی نے توکل اور خداوندِ متعال پر اعتماد سے متعلق قرآنی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: خداوندِ متعال نے اہلِ ایمان کو سکھایا ہے کہ وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہوئے ظاہری طاقتوں کے مقابلے میں استقامت کا مظاہرہ کریں۔ یہی عقیدہ قوموں میں اعتمادِ نفس اور خود اعتمادی کی بنیاد اور عالمی طاقتوں کی تسلط پسندی کے خلاف مزاحمت کا سرچشمہ ہے۔










آپ کا تبصرہ